APCA Header
آہم خبریں
حیدرآباد: مرکزی ، صوبائی ، ڈویژنل او ر دیگر سیکٹر کی تمام باڈی کی مدت کے خاتمہ کے بعد مشاورت مرکزی و صوبائی اور ڈویژن سطح پر نام طلب کئے ہیں جلد عبوری باڈیز تشکیل دی جائیں گی- زیڈ اے شیخ
لاہور: لاہور دھرنا ملازمین کے مسائل پر 30 دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کے احکامات چیف سیکریٹری پنجاب نے دئے اور مجاز افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی اور دھرنا عارضی مؤخر کیا گیا ہے -رحمان باجواہ
لاہور: لاہور دھرنے میں سمیع اللہ خلیل بابائے اگیگا و دیگر خیبرپختونخواہ سے دھرنے میں شرکت اشرافیہ اور مراعات یافتہ ملازمین کی منہ پر تماچہ
لاہور: لاہور کی سرد رات میں دھرنا دینے والے ان غیور ملازمین کی جرات کو سلام #لاہور_دھرنا تیسرے دن میں داخل ہو گیا
لاہور: نچلی سطح پر ملازمین کے مطالبات پر مذاکرات کی آفر آئی ہے لیکن مذاکرات مریم نواز اور ذمہ داران سے ہونگے-رحمان باجواہ
اسلام آباد: لاہور کے احتجاج کو کامیاب کرنے اور ملازمین کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کیلئے اگیگا قائد رحمان باجواہ ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد سے لاہور روانہ
حيدرآباد: ایپکا پاکستان شہید ساقی کے مرکزی ایگزیکیوٹو باڈی کی مدت 31/1/2025 کو ختم ہو چکی ہے, اسکے بعد مرکزی اور صوبائی و ڈویزنل سطح پر عبوری باڈی کیلئے نام طلب
جام شور: زنجیروں میں جکڑے زندگی گزارنے سے بہتر ہے اپنی آزادی کے لیے لڑتے ہوئے مرنا ہے ہم کشمیریوں کی خودمختاری کی مکمل حمایت کرتے ہیں
گوجرانوالا: ملازمین کے مشترکہ لاہور احتجاج کے 10 فروری 2026 کی مکمل حمایت کرتے ہیں ایپکا شہید ساقی کے صوبائی و مرکزی رہنماء شھباز چھٹہ اور ملک الطاف کی قیادت میں بھر پور شرکت ہوگی اور پنجاب بھر کے دیگر ساتھی بھی اپنے اپنے حصہ کا فرض ادا کریں
گوجرانوالا: ملازمین کے مشترکہ لاہور احتجاج کے 10 فروری 2026 کی مکمل حمایت کرتے ہیں ایپکا شہید ساقی کے صوبائی و مرکزی رہنماء شھباز چھٹہ اور ملک الطاف کی قیادت میں بھر پور شرکت ہوگی اور پنجاب بھر کے دیگر ساتھی بھی اپنی اپنی حصہ فرض ادا کریں
For Membership

PENSION IN CASE OF RE-EMPLOYMENT/ APPOINTMENT AFTER RETIREMENT (Policy withdrawn)

فکر نا فاقہ عیش کر کاکہ-
کیا ریٹائرمنٹ کے بعد آفسران کے علاوہ کوئی چھوٹا ملازم بہی بہرتی ہوتا ہے؟
وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر بوجھ صرف سرکاری سول لائیں ڈپارٹمنٹ ملازمین اور پینشنرز ہیں ۔
ملک کا خزانہ کرپشن اور غیر معیاری مٹیریل کے استعمال اور ٹھیکیداروں اور نجکاری کے نام پر لوٹ مار جاری ہے کیوں کی اس میں حکومتی لوگ صف اول کے کام میں مصروف ہیں !
دوسری جانب حکومت کا وہ فیصلہ بھی واپس لیا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن یا تنخواہ لینا بوجھ قرار دیا گیا تھا اب دوبارہ دونوں مراعات پہلے کی طرح حاصل ہونگی تو 2024 کے نئے بھرتی ملازمین کی پیشن بار کیوں ہے ؟ اور انکی تنخواہوں سے %10 فیصد کٹوتی بھی ناانصافی ہے!
پینشن حق ہے خیرات نہیں مگر سرمایہ داری اور ٹھیکیداری نظام کو ترجیح میں سرکاری ملازمین وزراء اور مشیران حکومت کو کیوں لگ رہا ہے بوجھ بن گئے ہے افسوس