APCA Header
آہم خبریں
حيدرآڀاد: چلو چلو لاہور چلو 23/4/2026 کو میگا دھرنے اور احتجاج میں ملازمین حقوق کی جنگ رحمان باجواہ کے سنگ ایپکا پاکستان شھید ساقی لاہور ڈویژن وسیم نواز اور معز الرحمان و دیگر ساتھی
حيدرآباد: ملک بھر میں ڈویژنل اور ضلعی سطح اور تحصیل و تعلقہ اور سیکٹر باڈی اور وفاقی سطح پر اداروں کی ایگزیکٹیو باڈی کی تشکیل کا اعلان- ایم اے بھرگڑی ایپکا پاکستان (شہید ساقی
جام شورو: اپنی نامینیشن اور اگر پہلے ممبر نہیں تو جلد سے جلد اپنے فارم دیں انفرادی طور پر یا پینل یا اجتماعی صورت میں ایپکا پاکستان شھید ساقی میں نمائندگی کیلئے
جام شورو: اپنی نامینیشن اور اگر پہلے ممبر نہیں تو جلد سے جلد اپنے فارم دیں انفرادی طور پر یا پینل یا اجتماعی صورت میں ایپکا پاکستان شھید ساقی میں نمائندگی کیلئے
حيدرآباد: ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کو پنجاب میں فعال کرنے کیلئے لاہور ڈویژن کی تشکیل کیکئے نامینشین اور ممبر شپ فارم جاری کردیے گئے
حيدرآباد: سول ملازمین لائین محکمہ جات کا معاشی قتل ہو رہا ہے سیکریٹریٹ ملازمین اور افسران کی مراعات دیگر ملازمین سے زیادہ ہیں عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے ملازمین کی تنخواہیں دیگر ملازمین سے تین گنا زیادہ ہیں
حيدرآڀاد: پیٹرول اور ڈیزل اور گیس کے ریٹ کم کئے جائیں کم سے 200 تک کئے دیگر صورت ملک کے بھر کے سول ملازمین کو کنوینس چارجز ماہانہ 10 سے 20 ھزار ماہانہ کیا جائے ایپکا پاکستان شھید ساقی
حيدرآباد: ھماری جھموریت یہ ہے سرکاری نوکری گریڈ 1 تا 4/5 کی پوسٹ 7-10 لاکھ میں بھیجی جا رہی ہے جو بیروزگار گرمیوں میں درخواستیں جمع کرانے میں جس اذیت سے گذرے تھے انکا کسی کو۔ جی احساس نہیں
حيدرآباد: ھماری جھموریت یہ ہے سرکاری نوکری گریڈ 1 تا 4/5 کی پوسٹ 7-10 لاکھ میں بھیجی جا رہی ہے جو بیروزگار گرمیوں میں درخواستیں جمع کرانے میں جس اذیت سے گذرے تھے انکا کسی کو۔ جی احساس نہیں
حيدرآباد: سول ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن عدالتی طرز پر ںڑھائی جائیں اور ملازمین کو انکم ٹیکس کٹوتی سے مستثنی کیاجائے - مرکزی صدر ایپکا پاکستان شھید ساقی نیاز حسین
For Membership

PENSION IN CASE OF RE-EMPLOYMENT/ APPOINTMENT AFTER RETIREMENT (Policy withdrawn)

فکر نا فاقہ عیش کر کاکہ-
کیا ریٹائرمنٹ کے بعد آفسران کے علاوہ کوئی چھوٹا ملازم بہی بہرتی ہوتا ہے؟
وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر بوجھ صرف سرکاری سول لائیں ڈپارٹمنٹ ملازمین اور پینشنرز ہیں ۔
ملک کا خزانہ کرپشن اور غیر معیاری مٹیریل کے استعمال اور ٹھیکیداروں اور نجکاری کے نام پر لوٹ مار جاری ہے کیوں کی اس میں حکومتی لوگ صف اول کے کام میں مصروف ہیں !
دوسری جانب حکومت کا وہ فیصلہ بھی واپس لیا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن یا تنخواہ لینا بوجھ قرار دیا گیا تھا اب دوبارہ دونوں مراعات پہلے کی طرح حاصل ہونگی تو 2024 کے نئے بھرتی ملازمین کی پیشن بار کیوں ہے ؟ اور انکی تنخواہوں سے %10 فیصد کٹوتی بھی ناانصافی ہے!
پینشن حق ہے خیرات نہیں مگر سرمایہ داری اور ٹھیکیداری نظام کو ترجیح میں سرکاری ملازمین وزراء اور مشیران حکومت کو کیوں لگ رہا ہے بوجھ بن گئے ہے افسوس